کورونا کے مریض پارٹیز کے مہمانِ خصوصی

دنیا بھر میں جہاں کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کے خوف کی وجہ سے متاثرہ ممالک ،کووڈـ۱۹ سے بچاؤ کے لیے پابندیاں لگا رہے ہیں اور   لوگ اپنے اپنے گھروں سے بلا ضرورت باہر نکلنے سے گریز کر رہے ہیں، وہیں بہت سارے لوگ اسے سازش قرار دے رہے ہیں یا ہنسی مزاق میں بات ٹال رہے ہیں۔ لیکن یو ایس کی ریاست الباما میں کچھ طلبہ انوکھی دعوت کا اہتمام کرتے رہے ہیں۔

کووڈـ۱۹ کی دعوت

ریاست الباما کے شہر  ٹسکائوسا کے طلبہ نے کورونا وائرس کی وباء کے دوران پارٹیز سجانا شروع کر دی ہیں۔البامہ کے شہر ٹسکائوسا  کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ طلبہ پارٹیز  کر رہے ہیں اور  مقابلہ کر رہے ہیں کہ کورونا وائرس کس کو سب سے پہلے متاثر کرتا ہے۔ٹسکائوسا کی سٹی کونسلر سونیا مسکسٹری کے مطابق، پارٹی میں منتظمین  ارادتاً ان مہمانوں کو مدعو کر رہے ہیں جو کورونا وائرس کا شکار ہیں۔سب لوگ مل کر پارٹی کا لطف اٹھاتے ہیں۔ایک برتن میں سب لوگ پیسے ڈال دیتے ہیں اور جو سب سے پہلے وائرس کا شکار ہو جاتا ہے وہ پیالے میں موجود رقم کا حقدار ہوتا ہے۔

عہدیداروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ کچھ طلبہ ان دعوتوں  میں منتظمیں کے ارادوں کو نہ جانتے ہوئے شرکت کر کے اپنی اور اپنے پیاروں کی جان خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔وہ اس بات پر مشتعل ہیں کہ وہ ہر طرح کے انتظامات اور وسائل فراہم کر رہے ہیں کہ اس وباء کو پھیلنے سے روکا جا سکے مگر  یہ لوگ اس کو ارادتاً پھیلانے کی کوششوں میں ہیں۔یہ بات ابھی واضح نہیں ہے کہ ان طلبہ کا تعلق کن تعلیمی اداروں سے ہے لیکن الباما کی یونیورسٹی اور شہر میں موجود  کئیدوسرے  کالج کے طلبہ کا اس سرگرمی میں شامل ہونے کا خدشہ ہے۔

یو ایس میں اس وباء کے شروع ہونے سے لے کر اب تک تقریباً ٣.٣  ملین کورونا والرس کے کیس رپورٹ ہو چکے ہیں اور اندازاً ۱ لاکھ ۳۵ ہزار لوگ موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔جبکہ ریاست الباما میں  ۱۴ دنوں کے اندر ۱۶۵۰۰ نئے کووڈـ۱۹ کیس مزید رپورٹ ہو چکے ہیں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *