٣٠سال کی عمر کے بعد لازمی یہ ٹیسٹ کروائیں

میڈیکل ریسرچ کے مطابق ۳۰ سال کے بعد انسان بڑھاپے کی طرف بڑھنا شروع کر دیتا ہے۔زندگی کے اس عرصے میں قوتِ مدافعت بھی کم ہونا شروع ہو جاتی ہے اور بیماریوں کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔۳۰ سال کی عمرکے بعد آپکے جسم کو پہلے کی نسبت  ذیادہ توجہ کی ضرورت ہوتی ہے اور ہر  شخص کو عمر کے اس حصے میں باقاعدگی سے کم از کم سال میں ایک مرتبہ مندرجہ ذیل ٹیسٹس ضرور کروانے چاہیے۔

خون کا ٹیسٹ

کمپلیٹ سی بی سی کہلایا جانے والا یہ ٹیسٹ بہت اہمیت کا حامل ہے،یہ آپ کے جسم میں موجود خون کی مقدار کے علاوہ بھی بہت اہم معلومات فراہم کرتا ہے،مثلاً خون میں موجود خلیوں کی تعداد وغیرہ۔خون کے خلیوں کی تعداد میں کمی یا ذیادتی بہت سی بیماریوں کی نشان دہی کرتی ہے،جن کا بروقت آپ کو علم ہونا بہت ضروری ہے۔

میمو گرافی سیکریننگ

خواتین کو چاہیے کہ بریسٹ کینسر کی تشخیص کے لیے میموگرافی سیکریننگ ،سال میں ایک مرتبہ ضرور کروائیں،کیونکہ تحقیق کے مطابق ہر دس خواتین میں سے ایک ،اس مہلک کینسر میں مبتلا ہے، اور اگر بر وقت اس کا علم ہو جائے تو علاج بھی ممکن ہے۔

لپڈ پروفائل ٹیسٹ

دل کے امراض کی ایک بڑی وجہ خون میں موجود کولیسٹرول کی ذیادتی ہے،لپڈ پروفائل ٹیسٹ آپ کو خون میں موجود کولیسٹرول کی مقدار  کے بارے میں مکمل آگاہی فراہم کرتا ہے۔یورن ڈی ـ آر ٹیسٹ یہ ٹیسٹ آپکے گردوں کی کارکردگی کی مکمل جانچ پڑتال کرتا ہے،اور اس ،کی ٹھیک رپورٹ آپکے گردوں کی بہتر ین کارکردگی کو ظاہر کرتی ہے۔

بلڈ شوگر ٹیسٹ

خالی پیٹ کروایا جانے والا یہ ٹیسٹ بہت اہم ہے ۔یہ آپ کو ذیابطیس جیسے عام مرض کے بارے  میں آگاہی فراہم کرتا ہے،تاکہ آپ بر وقت احتیاط کر کے بڑے خطرے سے محفوظ رہ سکیں۔اگر آپ کی ٹیسٹ رینج ۱۱۰ سے ذیادہے تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں ۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ ایک اچھی اور صحت مند زندگی گزاریں،تو اپنی خوراک کا بھر پور خیال رکھیں اور اپنی زندگی میں ورزش کع باقاعدگی سے شامل کریں۔اس کے علاوہ اپنے ریگولر ٹیسٹ کرائیں تاکہ آپ بر وقت تشخیص سے بڑے خطرے سے بچ سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *